حدیث نمبر: 35625
٣٥٦٢٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن سعيد بن أبي هند عن أبي مرة مولى عقيل بن أبي طالب عن أم هانئ ابنة أبي طالب قالت: لما فتح ⦗٤٤٩⦘ رسول اللَّه ﷺ مكة فر (إليّ) (١) رجلان من أحمائي فأجرتهما -أو كلمة تشبهها- فدخل عليَّ أخي علي بن أبي طالب فقال: لأقتلنهما (قالت) (٢): فأغلقت الباب عليهما، ثم جئت رسول اللَّه ﷺ بأعلى مكة فقال: "مرحبا و (أهلا) (٣) بأم هانئ، ما جاء بك؟ " (قالت) (٤): قلت: يا نبي اللَّه، فر إليّ رجلان من أحمائي فدخل علي أخي علي بن أبي طالب فزعم أنه قاتلهما، فقال: "لا، قد أجرنا من أجرت، وأمنا من أمنت" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح فرمایا : تو حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے خاوند کے دو رشتہ دار بھاگ کر میرے پاس آئے تو میں نے ان کو پنادہ دے دی، میرے بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور فرمایا : میں ان کو ضرور قتل کروں گا، حضرت ام ھانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ان دونوں کو کمرے میں بند کردیا اور میں رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا : خوش آمدید ام ھانی رضی اللہ عنہا ! خیریت سے تشریف لائی ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ : اے اللہ کے نبی ﷺ! میرے خاوند کے خاندان کے دو شخص بھاگ کر میرے پاس آئے تو میں نے ان کو پناہ دے دی، میرے بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا : نہیں (ان کو قتل نہیں کیا جائے گا) جس کو تو نے پناہ دی اس کو ہم نے بھی پناہ دی اور جس کو تو نے امن دیا ا س کو ہم نے بھی امن دیا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [هـ]: (قال).
(٣) في [ب]: (هلا).
(٤) في [هـ]: (قال).
(٥) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، وأخرجه مسلم (٣٣٦)، كتاب صلاة المسافرين (٨١)، وأحمد (٢٦٨٩٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35625
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35625، ترقيم محمد عوامة 34071)