حدیث نمبر: 35615
٣٥٦١٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا مالك بن مغول عن طلحة بن مصرف عن محمد ابن عبد الرحمن بن يزيد النخعي قال: قلت لأبي: يا أبة في إمارة الحجاج أتغزو؟ قال: يا بني لقد (أدركت) (١) أقوامًا أشد بغضا منكم للحجاج وكانوا لا يدعون الجهاد على حال، ولو كان رأي الناس في الجهاد مثل رأيك ما (أدي) (٢) (الأتاوة) (٣) -يعني الخراج.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن عبدالرحمن بن یزید النخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے عرض کیا کہ اے ابا ! حجاج کے دور امارت میں آپ جہاد میں شریک ہوئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا اے بیٹے ! میں نے تو ان لوگوں کو بھی پایا ہے جو حجاج کے معاملہ میں تم سے زیادہ سخت تھے، لیکن انہوں نے پھر بھی جہاد کو نہ چھوڑا۔ اور اگر لوگوں کی بھی وہی رائے بن جاتی جو آپ کی رائے ہے تو پھر خراج نہ ادا کیا جاتا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (رأيت).
(٢) في [هـ]: (أرى).
(٣) في [أ، ب]: (الأنواه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35615
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35615، ترقيم محمد عوامة 34061)