حدیث نمبر: 35534
٣٥٥٣٤ - حدثنا محمد بن حجاج عن مطرف عن الشعبي أنه سئل عن (١) النبي ﷺ والصفي فقال: (إنما) (٢) سهم النبي ﷺ مثل سهم رجل من المسلمين، وأما ⦗٤٢٨⦘ الصفي فكانت له غرة يختارها من غنيمة المسلمين إن شاء جارية وإن شاء فرسًا، أي ذلك شاء (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ غنیمت اور صفی کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا : جس طرح ایک عام مسلمان کا غنیمت میں حصہ تھا اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ تھا اور بہر حال صفی سے مراد وہ حصہ ہے جس کو اللہ کے نبی مسلمانوں کے غنیمت میں سے الگ فرما لیتے خواہ وہ باندی ہو، گھوڑا ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہو۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: زيادة (سهم).
(٢) في [أ]: (لنا).
(٣) أخرجه أبو داود (٢٩٩١)، والنسائي (٤٤٤٧)، وعبد الرزاق (٩٤٨٥)، وسعيد بن منصور ٢٦٧٣)، والطحاوي ٣/ ٣٠٢، والبيهقي ٦/ ٣٠٤، وابن زنجويه (٦٧).