حدیث نمبر: 35522
٣٥٥٢٢ - حدثنا وكيع ثنا (كهمس) (١) عن عبد اللَّه بن شقيق العقيلي قال: قام رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه أخبرني عن الغنيمة؟ فقال: "للَّه سهم، (ولهولاء) (٢) أربعة"، قال: قلت: فهل أحد أحق بها من أحد؟ قال: فقال: "إن رميت بسهم في جنبك فلست بأحق به من أخيك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن شقیق العقیلی سے مروی ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں کھڑا ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے غنیمت کے متعلق بتائیے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک حصہ اللہ کے لیے اور چار حصے ان کیلئے۔ میں نے عرض کیا : کیا کوئی شخص کسی سے زیادہ حقدار بھی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تیرے پہلو میں تیر بھی مارا گیا پھر بھی تو اپنے بھائی سے زیادہ حقدار نہیں ہے۔

حواشی
(١) في [أ]: (كتهمس).
(٢) في [أ، ب]: (فلهؤلاء).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35522
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبد اللَّه بن شقيق تابعي، أخرجه ابن زنجويه (١١٣٧)، وقد ورد عن ابن شقيق عن رجل من بلقين، أخرجه الطحاوي ٣/ ٢٢٩، وأحمد بن منيع كما في المطالب (٢٠٦٥)، وابن الأثير في أسد الغابة ٦/ ٤٢٦، وابن أبي حاتم في العلل ١/ ٣٠٨، وأبو عبيد في الأموال (٧٦٤)، والبيهقي ٦/ ٣٢٤، وورد من حديث ابن شقيق عن رجل من بلقين عن رجل منهم، أخرجه سعيد بن منصور (٢٦٨٠)، وورد عن ابن شقيق عن رجل من بلقين عن ابن عم له، أخرجه البيهقي في شعب الإيمان (٤٣٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35522، ترقيم محمد عوامة 33977)