مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الإمام والأمير يؤذنه بالإقامة باب: امام اور امیر کو نماز کے کھڑے ہونے کی خبر دینے کا حکم
حدیث نمبر: 3552
٣٥٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) جرير عن عبد العزيز بن رفيع عن مجاهد قال: لما قدم عمر مكة أتاه أبو محذورة وقد أذن فقال: الصلاة يا أمير المؤمنين (حي على الصلاة) (٢) حي على الصلاة، حي على الفلاح حي على الفلاح، قال: ويحك أمجنون أنت؟! أما كان في دعائك الذي دعوتنا ما نأتيك حتى تأتينا (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمرم کہ تشریف لائے تو حضرت ابومحذورہ اذان دینے کے بعد ان کے پا س آئے اور کہنے لگے : اے امیر المؤمنین ! نماز کا وقت ہوگیا، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا تم پاگل ہو ؟ کیا ہمارے مسجد میں حاضر ہونے کے واسطے وہ پکار کافی نہیں جو تم دے چکے ہو۔
حواشی
(١) في [جـ، ك]: (نا).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) منقطع؛ مجاهد لم يسمع من عمر.