مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
قوله: ﴿يسألونك عن الأنفال﴾ ما ذكر فيها؟ باب: ارشاد خداوندی (یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ) کے متعلق جو وارد ہوا ہے
حدیث نمبر: 35506
٣٥٥٠٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسرائيل عن جابر عن (مكحول) (١) وعكرمة، ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [الأنفال: ١]، قالا: كانت الأنفال للَّه ورسوله حتى نسختها: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾.مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول اور حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ ما فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیت { یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ قُلَ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ } نازل ہوئی تو مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہوتا تھا یہاں تک قرآن کریم کی دوسری آیت { وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ } نے اس کو منسوخ کردیا۔
حواشی
(١) في [هـ]: (مجاهد).