مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في الفارس كم يقسم له؟ من قال: ثلاثة أسهم؟ باب: گھوڑا سوار کو کتنا حصہ ملے گا؟
حدیث نمبر: 35390
٣٥٣٩٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن جويبر قال: كتب إلينا عمر بن عبد العزيز ونحن بخراسان: بلغنا الثقة عن رسول اللَّه ﷺ أنه أسهم للفارس ثلاثة ⦗٣٩٢⦘ أسهم: سهمين لفرسه وسهما له، وأسهم (للراجل) (١) سهمًا، وقال في الخيل: "العراب (والمقارف) (٢) (والبراذين) (٣) سواء" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جویبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم خراسان کے علاقہ میں تھے حضرت عمر بن عبدالعزیزنے ہمیں لکھا کہ ثقہ راویوں کے ذریعہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑ سوار کو تین حصے عطاء فرمائے، دو حصے اس کے گھوڑے کے اور ایک حصہ اس کیلئے، اور پیادہ کو ایک حصہ عطا فرمایا، اور گھوڑوں کے متعلق فرمایا : عراب، مقارف اور براذین (مختلف نسل کے گھوڑے) اس حکم میں برابر ہیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (للرجل).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (المعارف).
(٣) في [ب]: (البرازين).