مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في الاستعانة بالمشركين من كرهه؟ باب: مشرکین سے مدد مانگنے کا بیان کون اس کو مکروہ سمجھتا ہے
٣٥٣٧٢ - حدثنا يعلى بن عبيد عن محمد بن عمرو عن (سعد) (١) بن المنذر قال: خرج رسول اللَّه ﷺ إلى أحد، فلما خلف ثنية الوداع نظر خلفه، فإذا كتيبة (خشناء) (٢)، فقال: "من هولاء؟ " قالوا: عبد اللَّه بن أبي (بن) (٣) سلول ومواليه من اليهود فقال: "وقد أسلموا؟ " قالوا: لا، قال: "فإنا لا نستعين بالكفار على المشركين" (٤).حضرت سعد بن منذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ کی طرف نکلے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وداع کی گھاٹیوں کو پیچھے چھوڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نیچے دیکھا تو وہاں بہت اسلحہ والی جماعت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا : عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے یہودی دوست۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا انہوں نے اسلام قبول کرلیا ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا : نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک ہم مشرکین کے خلاف کفار سے مدد طلب نہیں کرتے۔