مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في الاستعانة بالمشركين من كرهه؟ باب: مشرکین سے مدد مانگنے کا بیان کون اس کو مکروہ سمجھتا ہے
٣٥٣٧١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا (مستلم) (١) بن سعيد قال: ثنا خبيب بن عبد الرحمن بن خبيب عن أبيه عن جده قال: خرج رسول اللَّه ﷺ يريد وجهًا، فأتيته أنا ورجل من قومي، فقلنا: إن شهد قومنا (مشهدًا لا نشهده) (٢) معهم قال: "أسلمتما؟ " قلنا: لا، قال: "فإنا لا نستعين بالمشركين على المشركين"، قال: (فأسلمنا) (٣) وشهدنا معه (٤).حضرت خبیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے جنگ کے ارادے سے، تو میں اور میری قوم کا ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ ہم نے عرض کیا : ہمیں شرم آتی ہے کہ ہماری قوم تو میدان جنگ میں حاضر ہو اور ہم ان کے ساتھ شریک نہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا تم دونوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ؟ ہم نے کہا : نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک ہم مشرکین کے خلاف مشرکین سے مدد طلب نہیں کرتے۔ راوی فرماتے ہیں : کہ ہم دونوں اسلام لے آئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی۔