مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في رخص في التحريق في أرض العدو وغيرها باب: جس نے دشمن کی زمین یا اس کے علاوہ کسی جگہ میں جلانے میں رخصت دی
٣٥٣٦٦ - حدثنا وكيع ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم عن جرير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ألا تريحني من ذي الخلصة بيت كان لخثعم (كانت) (١) تعبده في الجاهلية، يسمى كعبة اليمانية"، قال: فخرجت في (خمسين) (٢) ومائة راكب، قال: فحرقناها حتى جعلناها مثل (الجمل) (٣) الأجرب، قال: ⦗٣٨٦⦘ بعث جرير رجلا إلى النبي ﷺ يبشر، فلما قدم عليه قال: والذي بعثك بالحق ما أتيتك حتى (تركناها) (٤) مثل الجمل الأجرب، قال: فبارك رسول اللَّه ﷺ على أحمس خيلها ورجالها خمس مرات (٥).حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم مجھے ذی الخلصہ سے راحت نہیں پہنچاؤ گے ؟ یہ خثعم کا گھر تھا جس کی زمانہ جاہلیت میں عبادت کی جاتی تھی اور اس کا نام کعبہ یمانیہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ڈیڑھ سو سواروں کو لے کر نکلا اور ہم نے اس کو جلا دیا یہاں تک کہ ہم نے اسے خارش زدہ اونٹ کی مانند بنادیا پھر حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا اس بات کی خوشخبری سنانے کے لیے ، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ، میں نے آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہاں تک کہ ہم نے اس جگہ کو خارش زدہ اونٹ کی مانند چھوڑا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ مرتبہ احمس کو ، اس کے گھوڑے کو اور اس کے آدمیوں کو برکت کی دعا دی۔