مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في رخص في التحريق في أرض العدو وغيرها باب: جس نے دشمن کی زمین یا اس کے علاوہ کسی جگہ میں جلانے میں رخصت دی
٣٥٣٦٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الرحمن بن عبيد عن أبيه قال: كان أناس يأخذون العطاء (١) ويصلون مع (الناس) (٢)، وكانوا يعبدون الأصنام في السر، فأتي بهم علي بن أبي طالب فوضعهم في المسجد، أو قال: في السجن، ثم قال: يا أيها الناس ما ترون في قوم كانوا يأخذون معكم العطاء والرزق ويعبدون هذه الأصنام؟ قال الناس: اقتلهم، قال: لا، ولكن أصنع بهم كما صنعوا بأبينا إبراهيم، فحرقهم بالنار (٣).حضرت عبد الرحمن بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عبید رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ کچھ لوگ تھے جو عطیات اور تنخواہیں لیتے تھے اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور پوشیدگی میں بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ان لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کے پاس لایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو مسجد میں یا جیل خانہ میں قید کردیا۔ پھر فرمایا : اے لوگو ! تمہاری کیا رائے ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں جو تمہارے ساتھ عطیات اور تنخواہیں لیتے ہیں اور ان بتوں کی پوجا کرتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : آپ رضی اللہ عنہان کو قتل کردیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ میں ان کے ساتھ وہی معاملہ کروں گا جو انہوں نے ہمارے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ کیا تھا۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو آگ میں جلا دیا۔