مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في رخص في التحريق في أرض العدو وغيرها باب: جس نے دشمن کی زمین یا اس کے علاوہ کسی جگہ میں جلانے میں رخصت دی
٣٥٣٦٤ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين عن سويد بن غفلة أن عليًّا حرق زنادقة بالسوق، فلما رمى عليهم بالنار قال: صدق اللَّه ورسوله، ثم ⦗٣٨٥⦘ انصرف، (فاتبعته) (١)، فالتفت إلي قال: سويد؟ قلت: نعم، فقلت: يا أمير المؤمنين سمعتك تقول شيئًا؟ فقال: يا سويد (إني (٢) بقوم) (٣) جهال، فإذا سمعتني أقول: قال رسول اللَّه ﷺ فهو حق (٤).حضرت سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے زنادقہ کو بازار میں جلا ڈالا جب ان پر آگ پھینکی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ واپس لوٹ گئے میں بھی آپ رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہو لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے۔ اور پوچھا : کہ سوید ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! میں نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! میں نے سنا کہ آپ رضی اللہ عنہ کچھ فرما رہے تھے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے سوید ! بیشک میں جاہل لوگوں کے ساتھ ہوں۔ جب تم سنو کہ میں کچھ کہہ رہا ہوں تو وہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے اور وہ بالکل حق ہے۔