حدیث نمبر: 35343
٣٥٣٤٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل عن الحسن عن الأسود بن سريع قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما بال أقوام بلغوا في القتل حتى قتلوا الولدان"، قال: فقال رجل من القوم: إنما هم أولاد المشركين، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أو ليس أخياركم إنما هم أولاد المشركين (١)، إنه ليس (من) (٢) مولود يولد إلا على الفطرة حتى يبلغ فيعبر عن نفسه أو يهوده أبواه أو ينصرانه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کو کیا ہوا کہ انہوں نے قتل میں مبالغہ کیا یہاں تک کہ انہوں نے بچوں کو بھی قتل کردیا ؟ ! اس پر قوم میں سے ایک شخص بولا : وہ تو مشرکین کے بچے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہارے میں جو بہترین لوگ ہیں کیا وہ مشرکین کی اولاد میں سے نہیں ہیں ؟ ! بیشک کوئی بھی بچہ پیدا نہیں ہوتا مگر فطرت اسلام پر یہاں تک کہ جب وہ بالغ ہوتا ہے تو اظہار ما فی الضمیر کرتا ہے، یا اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: زيادة (فقال رسول اللَّه ﷺ).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) منقطع حكمًا؛ الحسن مدلس، أخرجه أحمد (١٥٥٨٩)، وعبد الرزاق (٢٠٠٩٠)، وأبو يعلى (٩٤٢)، والطحاوي في شرح المشكل (١٣٩٦)، والطبراني (٨٢٦)، والحاكم ٢/ ١٢٣، والبيهقي ٩/ ١٣٠، وابن أبي عاصم في الآحاد (١١٦٢)، والنسائي في الكبرى (٨٦١٦)، والدارمي ٢/ ٢٢٣.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35343
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35343، ترقيم محمد عوامة 33803)