مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
من ينهى عن قتله في دار الحرب باب: جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
٣٥٣٤٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل عن الحسن عن الأسود بن سريع قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما بال أقوام بلغوا في القتل حتى قتلوا الولدان"، قال: فقال رجل من القوم: إنما هم أولاد المشركين، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أو ليس أخياركم إنما هم أولاد المشركين (١)، إنه ليس (من) (٢) مولود يولد إلا على الفطرة حتى يبلغ فيعبر عن نفسه أو يهوده أبواه أو ينصرانه" (٣).حضرت اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کو کیا ہوا کہ انہوں نے قتل میں مبالغہ کیا یہاں تک کہ انہوں نے بچوں کو بھی قتل کردیا ؟ ! اس پر قوم میں سے ایک شخص بولا : وہ تو مشرکین کے بچے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہارے میں جو بہترین لوگ ہیں کیا وہ مشرکین کی اولاد میں سے نہیں ہیں ؟ ! بیشک کوئی بھی بچہ پیدا نہیں ہوتا مگر فطرت اسلام پر یہاں تک کہ جب وہ بالغ ہوتا ہے تو اظہار ما فی الضمیر کرتا ہے، یا اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔