مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
من ينهى عن قتله في دار الحرب باب: جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
٣٥٣٤٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن الزهري ومحمد بن علي عن يزيد بن هرمز قال: كتب نجدة إلى ابن عباس يسأله عن قتل الولدان، ويقول في كتابه: إن العالم صاحب موسى قد قتل الوليد، قال: فقال يزيد: أنا كتبت كتاب ابن عباس بيدي إلى نجدة: إنك كتبت تسأل عن قتل الولدان وتقول في كتابك: إن العالم صاحب موسى قد قتل الوليد، ولو كنت تعلم من الولدان ما علم ذلك (العالم) (١) من ذلك الوليد قتلته، ولكنك لا تعلم، قد نهى رسول اللَّه ﷺ عن قتلهم فاعتزلهم (٢).حضرت یزید بن ھرمز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر بچوں کو قتل کرنے کے متعلق سوال کیا اور اس نے اپنے خط میں لکھا کہ بلاشبہ ایک جاننے والے نے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی تھے۔ انہوں نے بچہ کو قتل کیا تھا ؟ ! یزید کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا خط نجدہ کی طرف لکھا : کہ تو نے خط لکھ کر بچوں کو قتل کرنے کے متعلق پوچھا اور اپنے خط میں تو نے کہا کہ بلاشبہ ایک جاننے والے نے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی تھے تحقیق انہوں نے بچہ کو قتل کیا تھا ؟ ! اگر تم بھی بچوں کے بارے میں وہ بات جانتے ہوتے تو تم بھی اس کو قتل کردیتے۔ لیکن تم نہیں جانتے۔ تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ پس تم ان سے الگ تھلگ رہو۔