حدیث نمبر: 35333
٣٥٣٣٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن يحيى بن سعيد قال: حدثت أن أبا بكر بعث جيوشا إلى الشام فخرج يتبع يزيد بن أبي سفيان فقال: إني أوصيك بعشر: لا تقتلن صبيا ولا أمرأة ولا كبيرا هرما، ولا تقطعن شجرا مثمرا، ولا (تخربن) (١) عامرا ولا (تعقن) (٢) شاة ولا (بقرة) (٣) (إلا) (٤) (لمأكلة) (٥)، ولا تغرقن نخلا ولا (تحرقنه) (٦) ولا (تغل) (٧) ولا تجبن (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے بیان کیا گیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف لشکر بھیجے۔ آپ رضی اللہ عنہ نکلے اور یزید بن ابو سفیان کے پیچھے چل رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا میں تمہیں دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں : تم بچوں کو ہرگز قتل مت کرنا، بچوں کو نہ ہی عورتوں کو اور نہ بہت ہی بوڑھیوں کو، اور تم پھلدار درخت مت کاٹنا۔ اور ہرگز آباد زمین کو برباد مت کرنا۔ اور ہرگز بکری اور گائے کو ذبح مت کرنا مگر صرف کھانے کے لیے۔ اور ہرگز کھجور کے درخت کو اوپر سری سے مت کاٹنا اور نہ ہی اس کو جلانا، اور نہ ہی خیانت کرنا، اور نہ ہی بزدلی دکھانا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (يحرقن).
(٢) في [أ، ب]: (تعوقن).
(٣) في [هـ]: (بعيرًا).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [أ، هـ]: (المأكلة).
(٦) في [ب]: (يحرقنه).
(٧) في [هـ]: (تغلل).
(٨) منقطع؛ يحيى لم يدرك أبا بكر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35333
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35333، ترقيم محمد عوامة 33793)