مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
من ينهى عن قتله في دار الحرب باب: جن لوگوں کو دارالحرب میں قتل کرنے سے منع کیا گیا
٣٥٣٢٩ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) سفيان (٢) (عن) (٣) أبي الزناد عن المرقع (بن عبد اللَّه) (٤) بن صيفي عن حنظلة الكاتب (٥) قال: غزونا مع ⦗٣٧٥⦘ (النبي) (٦) ﷺ فمررنا بامرأة مقتولة، وقد اجتمع عليها الناس، قال: فأفرجوا له فقال: "ما كانت هذه تقاتل فيمن يقاتل"، ثم قال لرجل: "انطلق إلى خالد ابن الوليد فقل له: إن رسول اللَّه ﷺ يأمرك يقول: لا تقتلن ذرية ولا عسيفًا" (٧).حضرت حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہمارا گزر ایک مقتولہ عورت پر ہوا اس حال میں کہ لوگ اس کے گرد جمع تھے۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جگہ کشادہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تو لڑائی کرنے والوں میں لڑائی نہیں کر رہی تھی ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کہا : کہ خالد بن ولید کے پا س جاؤ اور ان سے کہو : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم بچوں اور خدمت گاروں کو ہرگز قتل مت کرو۔