حدیث نمبر: 35322
٣٥٣٢٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سفيان بن (حسين) (١) عن الزهري عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة قال: لما ارتد (من ارتد) (٢) على عهد أبي بكر أراد أبو بكر أن يجاهدهم، فقال عمر: أتقاتلهم وقد سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من شهد أن لا إله إلا اللَّه وأن محمدا رسول اللَّه حرم ماله إلا بحقه وحسابه على اللَّه"، فقال أبو بكر: (أنى) (٣) لا نقاتل من فروا بين الصلاة والزكاة؟ واللَّه لأقاتلن من (فرق) (٤) بينهما حتى (٥) أجمعهما، قال عمر: فقاتلنا معه فكان رشدًا، فلما ظفر بمن ظفر به منهم (قال) (٦): اختاروا مني خصلتين: ⦗٣٧٣⦘ إما حربا مجلية وإما (الخطة) (٧) المخزية، فقالوا: هذه الحرب المجلية قد عرفناها فما (الخطة) (٨) المخزية؟ قال: تشهدون على قتلانا أنهم في الجنة وعلى قتلاكم أنهم في النار -ففعلوا (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب مرتد ہوئے وہ لوگ جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق کے زمانے میں مرتد ہوئے تھے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے جہاد کرنے کا ارادہ کیا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا آپ رضی اللہ عنہان لوگوں سے قتال کریں گے حالانکہ تحقیق آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یقینا محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو اس کا مال حرام ہوگیا مگر اللہ رب العزت کے ذمہ اس کا حساب ہوگا ؟ ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں قتال نہ کروں اس شخص سے جو نماز اور زکوۃ میں فرق کرے ؟ اللہ کی قسم ! میں ضرور اس شخص سے قتال کروں گا جو ان دونوں کے درمیان فرق کرے گا۔ یہاں تک کہ میں ان دونوں کو جمع کر دوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پس ہم نے ان کے ساتھ قتال کیا اس حال میں کہ وہ واقعی ہدایت پر تھے۔ پھر جب آپ رضی اللہ عنہان میں سے جتنے بھی لوگوں پر فتح یاب ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ میری طرف سے دو باتیں اختیار کرو لو۔ یا تو جلا وطن کرنے والی جنگ یا پھر رسوا کردینے والی زمین ۔ ان لوگوں نے کہا : کہ جلا وطن کردینے والی جنگ تو ہم سمجھ گئے۔ یہ رسوا کردینے والی زمین سے کیا مراد ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ تم ہمارے مقتولین کے بارے میں گواہی دو کہ وہ یقینا جنت میں ہیں اپنے مقتولین کے بارے میں گواہی دو کہ وہ یقینا جہنم میں ہیں پس ان لوگوں نے ایسا کیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (حسن).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) أي: كيف، وفي [ط، هـ]: (إنا).
(٤) في [ب]: (فرقا).
(٥) في [أ، ب، جـ]: زيادة (أجمع).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) في [ط، هـ]: (الحطة).
(٨) في [ط، هـ]: (الحطة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35322
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة تابعي، ورواية سفيان بن حسين عن الزهري ضعيفة، وقد ورد الحديث بنحوه وبدون آخره من طريق عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة عن أبي هريرة، أخرجه البخاري (١٣٩٩)، ومسلم (٢٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35322، ترقيم محمد عوامة 33782)