مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
فيما يمتنع به من (القتل) وما هو؟ وما يحقن الدم؟ باب: ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں اور وہ چیزیں کیا ہیں؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
٣٥٣١٩ - حدثنا شبابة بن سوار قال: ثنا ليث بن سعد عن ابن شهاب عن عطاء ابن يزيد الليثي عن عبيد اللَّه بن عدي بن الخيار عن المقداد أنه أخبره أنه قال: يا رسول اللَّه، أرأيت إن لقيت رجلًا من الكفار فقاتلني، فضرب إحدى يدي بالسيف فقطعها، ثم لاذ مني بشجرة فقال: أسلمت للَّه، أقتله يا رسول اللَّه بعد أن قالها؟ فقال: (رسول اللَّه) (١) ﷺ: "لا تقتله"، فقلت: يا رسول اللَّه، قطع يدي، ثم قال ذلك بعد أن قطعها، أفأقتله؟ قال: "لا تقتله، فإن قتلته فإنه بمنزلتك قبل أن تقتله، وأنت بمنزلته قبل أن يقول الكلمة (التي) (٢) قال" (٣).حضرت مقدادد بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے اس بارے میں کہ اگر میں کفار کے ایک آدمی سے ملا پھر اس نے مجھ سے لڑائی کی ۔ اور میرے ایک ہاتھ پر تلوار سے وار کیا اور ا س کو کاٹ دیا پھر وہ درخت کی آڑ میں مجھ سے پناہ مانگتا ہے اور کہتا ہے ۔ میں اللہ کے لیے اسلام لایا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں ایسا کہنے کے بعد اس کو قتل کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کو قتل مت کرو۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! اس نے میر اہاتھ کاٹ دیا پھر وہ کاٹنے کے بعد کلمہ پڑھتا ہے کیا میں اس کو قتل نہ کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کو قتل مت کرنا۔ اگر تم نے اس کو قتل کردیا تو وہ شخص تمہارے مرتبہ پر ہوگا۔ جس مرتبہ پر تم اس کو قتل کرنے سے پہلے تھے۔ اور تم اس کے مرتبہ پر ہو گے جس مرتبہ پر وہ یہ کلمہ جو اس نے پڑھا ہے اس کے پڑھنے سے پہلے تھا۔