حدیث نمبر: 35317
٣٥٣١٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: مر رجل من بني سليم على نفر من أصحاب رسول اللَّه ﷺ ومعه غنم له، فسلم عليهم فقالوا: ما سلم عليكم إلا ليتعوذ منكم، فعمدوا إليه فقتلوه، وأخذوا غنمه فأتوا بها رسول اللَّه ﷺ فأنزل اللَّه تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ﴾ إلى آخر الآية (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : کہ قبیلہ بنو سلیم کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ اس کے پاس بکریوں کا ریوڑ تھا۔ اس نے ان لوگوں پر سلام کہا : تو کچھ لوگوں نے کہا : کہ اس شخص نے تمہیں سلام نہیں کیا مگر اس وجہ سے کہ وہ خود کو تم سے محفوظ رکھے۔ پس یہ لوگ اس کے پیچھے گئے اور اس شخص کو قتل کردیا اور اس کی بکریاں لے لیں پھر وہ اس مال کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ترجمہ : اے ایمان والو ! جب تم نکلو اللہ کے راستہ میں جہاد کے لیے تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور نہ کہو اس شخص کو جو تمہیں سلام کرے کہ تم مومن نہیں ہے۔ کیا تم حاصل کرنا چاہتا ہو سازوسامان دنیاوی زندگی کا ؟ تو اللہ کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں۔ آیت کے آخر تک۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35317
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، أخرجه أحمد (٢٠٢٣)، والترمذي (٣٠٣٠)، وابن حبان (٤٧٥٢)، والطبري ٥/ ٢٢٣، والطبراني (١١٧٣١)، والحاكم ٢/ ٢٣٥، والبيهقي ٩/ ١١٥، والواحدي في أسباب النزول ص ١١٥، وأصله في البخاري (٤٥٩١)، ومسلم (٣٠٢٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35317، ترقيم محمد عوامة 33777)