مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
فيما يمتنع به من (القتل) وما هو؟ وما يحقن الدم؟ باب: ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں اور وہ چیزیں کیا ہیں؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
٣٥٣١٣ - حدثنا عبد اللَّه بن (١) بكر السهمي قال: ثنا حاتم بن أبي صغيرة عن (النعمان) (٢) بن سالم أن (عمرو) (٣) بن أوس أخبره (أن أباه أوسًا أخبره) (٤) قال: إنا لقعود عند رسول اللَّه ﷺ وهو يقص علينا ويذكرنا إذ أتاه رجل فسأله فقال رسول اللَّه ﷺ: "اذهبوا فاقتلوه"، فلما ولى الرجل دعاه رسول اللَّه ﷺ فقال: "هل تشهد أن لا إله إلا اللَّه؟ " قال: نعم، قال: "اذهبوا فخلوا سبيله، وإنما أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا اللَّه، فإذا فعلوا ذلك حرم (عليّ) (٥) دماؤهم وأموالهم" (٦).حضرت اویس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وعظ و نصیحت فرما رہے تھے۔ کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھا : اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اور اس کو قتل کردو۔ جب وہ آدمی واپس جانے کے لیے پلٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور پوچھا : کیا تم گواہی دیتے ہو اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اس کا راستہ خالی چھوڑ دو اس لیے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ و ہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں۔ اور جب انہوں نے ایسا کرلیا تو مجھ پر ان کی جانیں اور ان کا مال حرام ہوگیا۔