مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
فيما يمتنع به من (القتل) وما هو؟ وما يحقن الدم؟ باب: ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں اور وہ چیزیں کیا ہیں؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
٣٥٣١١ - حدثنا أبو معاوية عن (١) الأعمش عن أبي ظبيان عن أسامة بن زيد قال: بعثنا رسول اللَّه ﷺ إلى الحرقات من جهينة (قال) (٢): فصبحنا القوم وقد (نُذروا) (٣) بنا، قال: فخرجنا في آثارهم فأدركت رجلا منهم فجعلت إذا لحقته قال: لا إله إلا اللَّه، قال: فظننت (أنه) (٤) إنما يقولها فرقًا، قال: فحملت عليه فقتلته فعرض في نفسي من أمره، فذكرت ذلك للنبي ﷺ فقال لي رسول اللَّه ﷺ: "قال لا إله إلا اللَّه ثم قتلته؟ " قلت: يا رسول اللَّه، لم يقلها من قبل نفسه، إنما قالها فرقًا من السلاح، قال: فقال: "قال لا إله إلا اللَّه ثم قتلته؟ فهلا شققت عن قلبه حتى تعلم أنه إنما قالها فرقا من السلاح"، قال أسامة: فما زال يكررها علي: "قال لا إله إلا اللَّه ثم قتلته؟ "، حتى وددت أني لم أكن أسلمت إلا يومئذ (٥).حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبیلہ جھینہ کی طرف بھیجا۔ پس ہم نے اس قوم کے پاس صبح کی ، اور وہ لوگ ہم سے چوکنا ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے ان لوگوں کا پیچھا کیا تو ان میں سے ایک آدمی کو میں نے پکڑ لیا جیسے ہی میں اس سے ملا اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا میں نے گمان کیا کہ اس نے یہ کلمہ خوف سے پڑھا ہے ۔ پس میں نے اس پر حملہ کیا اور اس کو قتل کردیا۔ پھر میرے دل میں اس کا خیال آیا تو میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اس نے لا الہ الا اللہ پڑھا پھر بھی تم نے اس کو قتل کردیا ؟ ! میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! اس نے یہ کلمہ دل سے نہیں پڑھا تھا بلکہ اس نے یہ کلمہ اسلحہ کے خوف سے پڑھا تھا ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا۔ پھر تم نے اس کو قتل کردیا۔ تم نے اس کا دل کیوں نہیں پھاڑ ڈالا۔ یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہوجاتا کہ اس نے یہ کلمہ اسلحہ کے خوف سے پڑھا ہے ؟ ! حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مجھے یہ کہتے رہے کہ اس نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا پھر بھی تم نے اس کو قتل کردیا ! یہاں تک کہ میری خواہش ہوئی کہ میں اسلام نہ لایا ہوتا مگر آج ہی کے دن !۔