مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
من جعل السلب للقاتل باب: جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
٣٥٣٠٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن الأسود بن قيس العبدي عن شبر بن علقمة قال: لما كان يوم القادسية قام رجل من أهل فارس (فدعا إلى المبارزة وذكر من عظمه فقام إليه رجل قصير يقال له شبر بن علقمة قال: فقال به الفارسي) (١) هكذا -يعني احتمله ثم ضرب به الأرض فصرعه، قال: فأخذ شبر خنجرًا كان مع الفارسي فقال (به) (٢) في بطنه، -يعني (فخضخضه) (٣)، ثم انقلب عليه فقتله ثم جاء بسلبه إلى سعد، فقوم اثني عشر ألفا فنفله إياه (٤).حضرت اسود بن قیس العبدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت شبر بن علقمہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ جب جنگ قادسیہ کا دن تھا تو اہل فارس میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے مقابلہ کے لیے للکارا اور اپنی بڑائی بیان کی۔ تو ایک چھوٹا سا آدمی جس کو شبر بن علقمہ کہتے ہیں۔ وہ کھڑا ہوا۔ اس پر اس ایرانی نے کہا : یہ آدمی یعنی اس نے غصہ کا اظہار کیا پھر اس نے اس شخص کو زمین پر گرا یا اور پچھاڑ دیا۔ اتنے میں شبر نے خنجر پکڑا جو اس ایرانی کے پاس تھا۔ اور اس کے پیٹ میں اس کو گاڑ دیا اس طرح کر کے اس دوران حضرت شبر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ کو حرکت دے کر دکھلایا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ اس کے اوپر آگئے اور اس کو قتل کردیا ۔ پھر آپ اس سے چھینا ہوا مال لے کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے انہوں نے اس کی بارہ ہزار قیمت لگائی اور یہ مال آپ رضی اللہ عنہ کو بطور زائد کے عطا کردیا۔