مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
من جعل السلب للقاتل باب: جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
٣٥٣٠١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن عبد اللَّه بن أبي بكر قال: حدثت عن أبي قتادة الأنصاري أنه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قتل قتيلًا فله سلبه"، قال: فقلت: يا رسول اللَّه، قد قتلت قتيلًا (ذا سلب) (١) ثم (أجهضني) (٢) عنه القتال فما أدري من سلبه، قال رجل من أهل مكة: صدق يا رسول اللَّه، قد قتل قتيلًا فسلبته فأرضه عني، قال أبو بكر: لا واللَّه لا تفعل، تنطلق إلى (أسد) (٣) ⦗٣٦٥⦘ (من) (٤) أسد اللَّه (٥) يقاتل عنه تقاسمه؟ فقال رسول اللَّه قول: "صدق، ادفع إليه سلبه" (٦).حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی کو قتل کرے گا تو اس مقتول کا مال قاتل کا ہوگا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے ایک بہت سامان والے شخص کو قتل کیا تھا پھر لڑائی نے مجھے اس سے مشغول کردیا ۔ میں نہیں جانتا کہ کس نے اس کا سامان اتار لیا ؟ مکہ کا ایک شخص کہنے لگا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! اس نے سچ کہا : تحقیق اس نے ایک شخص کو قتل کیا تھا پس میں نے اس کا سامان اتار لیا اب آپ رضی اللہ عنہ اس کو میری طرف سے خوش کردیں۔ حضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں اللہ کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کریں گے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کا مال دوسروں میں تقسیم فرما دیں گے ؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابوبکر نے سچ کہا : تم اس کا سامان اسے دے دو ۔