حدیث نمبر: 35299
٣٥٢٩٩ - حدثنا (عيسى) (١) بن يونس عن ابن عون وهشام عن ابن سيرين عن أنس بن مالك قال ابن عون: بارز البراء بن مالك وقال هشام: حمل البراء بن مالك على مرزبان (الزارة) (٢) يوم الزارة، وطعنه طعنة (في) (٣) (قربوس) (٤) سرجه فقتله وسلبه سواريه ومنطقته، فلما قدمنا صلى عمر الصبح ثم أتانا فقال: أثَمَّ أبو طلحة، فخرج إليه فقال: إنا كنا لا نخمس السلب، وإن سلب البراء مال، فخمسُه (يبلغ) (٥) ستة آلاف، بلغ ثلاثين ألفًا، قال محمد: فحدثني أنس بن مالك أنه أو (ل) (٦) سلب خمس في الإسلام (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عیسیٰ بن یونس رحمہ اللہ حضرت ابن عون اور حضرت ہشام ان دونوں سے اور حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں ۔ حضرت ابن عون نے یوں فرمایا کہ حضرت براء بن مالک رحمہ اللہ نے مقابلہ کیا اور حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت براء بن مالک رحمہ اللہ نے جنگ زارہ کے دن مرزبان زارہ پر حملہ کردیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو نیزہ مارا جو اس کی زین کے ابھرے ہوئے کنارے میں گھس گیا اور وہ مرگیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے کنگن اور کمر بند لے لیے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم واپس لوٹے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے۔ اور پوچھا کہ کیا ابو طلحہ یہاں ہیں ؟ اتنے میں حضرت ابو طلحہ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس نکل آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا ہم مقتول کے مال میں سے خمس نہیں لیتے۔ لیکن براء کے مقتول کا سامان بہت زیادہ مال ہے پس آپ رضی اللہ عنہ نے اس میں سے خمس وصول کیا جو چھ ہزار بنا اس لیے کہ اس کی کل قیمت تیس ہزار تھی۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا : کہ اسلام میں یہ پہلا مقتول سے چھینا ہوا سامان تھا جس میں سے خمس وصول کیا گیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، هـ]: (عدي).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [ب]: (دقا).
(٤) في [أ، ب]: (قرنوس).
(٥) في [س]: (فبلغ).
(٦) سقط من: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35299
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35299، ترقيم محمد عوامة 33760)