مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
من جعل السلب للقاتل باب: جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
٣٥٢٩٦ - حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن محمد بن عبيد اللَّه عن سعد بن أبي وقاص قال: لما كان يوم بدر قتلت سعيد بن العاص وأخذت سيفه، وكان (سيفه) (١) يسمى (ذا الكتيفة) (٢)، قال: وقتل أخي عمير، فجئت بالسيف إلى النبي ﷺ قال: "فاذهب فاطرحه في القبض"، فرجعت وبي ما لا يعلمه إلا اللَّه من قتل أخي وأخذ (سيفي) (٣)، فما لبثت إلا قليلا حتى نزلت سورة الأنفال، فدعاني رسول اللَّه ﷺ (قال) (٤): فقال: "اذهب فخذ سيفك" (٥).حضرت محمد بن عبید اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب غزوہ بدر کا دن تھا تو میں نے حضرت سعید بن عاصی کو قتل کیا اور میں نے ا س کی تلوار لے لی اور اس کی تلوار کا نام ذوالکتیفہ تھا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ میرے بھائی عمیر کو بھی قتل کردیا گیا تھا۔ پس میں تلوار لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اور اس تلوار کو مقبوضہ مال غنیمت میں ڈال دو ۔ پس میں لوٹا اس حال میں کہ میرے دل میں میرے بھائی کے قتل اور مقتول کا مال لینے سے متعلق جو بات تھی وہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا ۔ میں تھوڑی دیر ہی ٹھہرا تھا کہ اتنے میں سورة الانفال نازل ہوگئی ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا : جاؤ اپنی تلوار لے لو۔