مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في دعاء المشركين قبل أن يقاتلوا باب: قتال کرنے سے قبل مشرکین کو دعوت دینے کا بیان
٣٥٢٦٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي البختري قال: لما غزا سلمان المشركين من أهل فارس قال: كفوا حتى أدعوهم كما كنت أسمع رسول اللَّه ﷺ يدعوهم فأتاهم فقال: إني رجل منكم وقد ترون منزلتي من هؤلاء القوم وإنا ندعوكم إلى الإسلام، فإن أسلمتم فلكم مثل ما لنا وعليكم مثل (ما) (١) علينا، وإن أبيتم فأعطوا الجزية عن يد وأنتم صاغرون، وإن أبيتم قاتلناكم، قالوا: أما الإسلام فلا نسلم، وأما الجزية فلا نعطيها، وأما القتال فإنا نقاتلكم، قال: فدعاهم (كذلك) (٢) ⦗٣٥٣⦘ ثلاثة أيام فأبوا عليه فقال (للناس) (٣): انهدوا إليهم (٤).حضرت ابو البختری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فارسی اہل فارس کے مشرکین سے جنگ کرنے کے لیے نکلے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم رک جاؤ یہاں تک کہ میں ان کو دعوت دوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دیتے ہوئے سنا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہان کے پاس آئے اور فرمایا : بلاشبہ میں تم ہی میں سے ایک آدمی ہوں اور تحقیق تم لوگوں نے اس قوم میں میرے رتبہ کو دیکھ لیا ہے ۔ یقینا ہم تمہیں اسلام کی طرف بلاتے ہیں اگر تم نے اسلام قبول کرلیا تو تمہارے لیے بھی وہی حقوق ہوں گے جو ہمیں حاصل ہیں اور تم پر وہی کچھ لازم ہوگا جو ہم پر لازم ہے۔ اور اگر تم اسلام قبول کرنے سے انکار کرتے ہو تو پھر تم ذلیل اور سرنگوں ہو کر جزیہ ادا کرو۔ اور اگر تم نے جزیہ ادا کرنے سے بھی انکار کردیا تو ہم تم سے قتال کریں گے۔ ان لوگوں نے جواب دیا۔ بہرحال اسلام تو ہم قبول نہیں کریں گے۔ اور جزیہ بھی ہم ادا نہیں کریں گے ۔ رہا قتال تو ہم یقینا تمہارے ساتھ قتال و لڑائی کریں گے۔ راوی کہتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح تین دن تک انہیں دعوت دی۔ اور انہوں نے قبول کرنے سے انکار کیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا : ان پر حملہ کردو۔