حدیث نمبر: 35248
٣٥٢٤٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن مخارق بن خليفة (١) عن طارق بن شهاب عن سلمان قال: دخل رجل الجنة في ذباب ودخل رجل النار (في ذباب) (٢)، (قال) (٣): مر رجلان على قوم قد عكفوا على صنم لهم وقالوا: لا يمر (علينا) (٤) اليوم أحد إلا قدم شيئًا، فقالوا لأحدهما: قدم شيئا، فأبى فقتل، وقالوا للآخر: قدم شيئًا، فقالوا: قدم ولو ذبابًا، فقال: (وإيش) (٥) ذباب، فقدم ذبابًا فدخل النار، فقال سلمان: فهذا دخل الجنة في ذباب، ودخل هذا النار في ذباب (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت طارق بن شھاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی مکھی کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگیا اور ایک آدمی مکھی ہی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوگیا۔ اس طرح کہ دو آدمی ایک قوم کے پاس سے گزرے جو اپنے بتوں کی عبادت میں مشغول تھی انہوں نے کہا آج ہم پر کوئی نہیں گزرے گا مگر یہ کہ وہ کچھ نہ کچھ پیش کرے گا ، تو انہوں نے ان دونوں میں سے ایک سے کہا : کوئی چیز پیش کرو۔ اس نے انکار کردیا تو اسے قتل کردیا گیا۔ انہوں نے دوسرے سے کہا : کوئی چیز پیش کرو، وہ کہنے لگا، میرے پاس تو کوئی بھی چیز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا پیش کرو اگرچہ مکھی ہی ہو۔ اس آدمی نے دل میں کہا : کہ صرف مکھی پیش کروں ؟ اور اس نے مکھی پیش کردی پس یہ شخص جہنم میں داخل ہوگیا۔ اس پر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ شخص مکھی کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگیا اور یہ شخص مکھی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوگیا۔

حواشی
(١) في [جـ]: زيادة (عن طلحة).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب]: (مكرره).
(٥) في [جـ]: (ما سى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35248
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد ص ٢٢، وفي العلل ٢/ ٧٥ وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٠٣، والخطيب في الكفاية ١/ ١٨٥، والبيهقي في شعب الإيمان (٧٣٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35248، ترقيم محمد عوامة 33709)