مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الوالي أله أن يقطع شيئا من الأرض؟ باب: جن لوگوں نے حکمران کے بارے میںیوں کہا: کہ کیا اسے اختیار ہے زمین کے کچھ حصہ کے مالک بنا دینے کا؟
٣٥٢٤١ - حدثنا معاذ بن معاذ قال: ثنا ابن (عون) (١) قال: ثنا رجل من بني زريق قال: أقطع أبو بكر طلحة أرضًا، وكتب له بها كتابا، وأشهد به شهودا (فيهم) (٢) عمر، فأتى طلحة عمر بالكتاب فقال: أختم على هذا، قال: لا أختم عليه، هذا لك دون الناس؟ فانطلق طلحة وهو مغضب، فأتى (أبا بكر) (٣) فقال: واللَّه ما أدري أنت الخليفة ⦗٣٤٦⦘ أو عمر؟ قال: (لا) (٤)، بل عمر (لكنه) (٥) (أبى) (٦) (٧).حضرت ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنو زریق کے ایک شخص نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے نام ایک زمین کردی اور ان کے لیے اس بارے میں ایک تحریر بھی لکھ دی اور اس پر گواہ بھی بنا دیے جن میں حضرت عمر بھی شامل تھے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ تحریر لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا : اس پر مہر لگا دو ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس پر مہر نہیں لگاؤں گا ۔ کیا یہ لوگوں کو چھوڑ کر صرف تیرے لیے ہے ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ چلے گئے اس حال میں کہ وہ بہت غصہ میں تھے ۔ پس وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ تم خلیفہ ہو یا عمر ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ عمر رضی اللہ عنہ نے تو صرف انکار کیا ہے !