مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الوالي أله أن يقطع شيئا من الأرض؟ باب: جن لوگوں نے حکمران کے بارے میںیوں کہا: کہ کیا اسے اختیار ہے زمین کے کچھ حصہ کے مالک بنا دینے کا؟
٣٥٢٤٠ - حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن محمد بن عبيد اللَّه الثقفي قال: أتى عمر رجل من ثقيف يقال له: نافع أبو عبد اللَّه، قال: فكان أول من افتلى الفلا بالبصرة، (قال) (١): فقال: يا (أمير) (٢) المؤمنين (إن) (٣) قبلنا أرضًا بالبصرة ليست من أرض الخراج، ولا تضر بأحد من المسلمين، فإن رأيت أن (تقطعنيها) (٤) أتخذها قضبا لخيلي فافعل، قال: فكتب عمر إلى أبي موسى إن كان كما قال: فأقطعها إياه (٥).حضرت محمد بن عبید اللہ الثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس قبیلہ ثقیف کا ایک شخص آیا جس کا نام نافع ابو عبد اللہ تھا ۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے بصرہ کی بےآب وگیاہ وادی کو چراگاہ بنایا۔ اس نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! ہماری طرف بصرہ میں ایک زمین ہے جو خراج کی زمین نہیں ہے اور نہ وہ مسلمانوں میں کسی کو نقصان پہنچائے گی اگر آپ مناسب سمجھیں تو وہ میرے نام کردیں میں اس میں اپنے گھوڑوں کے لیے گھاس اُگاؤں گا۔ آپ رضی اللہ عنہایسا کردیں۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا۔ اگر بات ایسے ہی ہے جیسا کہ اس نے کہا ہے۔ تو تم وہ زمین اس کے نام کردو۔