حدیث نمبر: 35240
٣٥٢٤٠ - حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن محمد بن عبيد اللَّه الثقفي قال: أتى عمر رجل من ثقيف يقال له: نافع أبو عبد اللَّه، قال: فكان أول من افتلى الفلا بالبصرة، (قال) (١): فقال: يا (أمير) (٢) المؤمنين (إن) (٣) قبلنا أرضًا بالبصرة ليست من أرض الخراج، ولا تضر بأحد من المسلمين، فإن رأيت أن (تقطعنيها) (٤) أتخذها قضبا لخيلي فافعل، قال: فكتب عمر إلى أبي موسى إن كان كما قال: فأقطعها إياه (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن عبید اللہ الثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس قبیلہ ثقیف کا ایک شخص آیا جس کا نام نافع ابو عبد اللہ تھا ۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے بصرہ کی بےآب وگیاہ وادی کو چراگاہ بنایا۔ اس نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! ہماری طرف بصرہ میں ایک زمین ہے جو خراج کی زمین نہیں ہے اور نہ وہ مسلمانوں میں کسی کو نقصان پہنچائے گی اگر آپ مناسب سمجھیں تو وہ میرے نام کردیں میں اس میں اپنے گھوڑوں کے لیے گھاس اُگاؤں گا۔ آپ رضی اللہ عنہایسا کردیں۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا۔ اگر بات ایسے ہی ہے جیسا کہ اس نے کہا ہے۔ تو تم وہ زمین اس کے نام کردو۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ]: (أمر).
(٣) في [أ، ب]: (إنا).
(٤) في [أ، ب]: (تعطينها).
(٥) منقطع؛ أبو عون محمد بن عبيد اللَّه لم يدرك عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35240
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35240، ترقيم محمد عوامة 33701)