مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الرجل يعمل الشيء في أرض العدو باب: جن لوگوں نے یوں کہا: اس آدمی کے بارے میں جو دشمن کے علاقہ میں کوئی کام کرتا ہو
حدیث نمبر: 35233
٣٥٢٣٣ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد الرحمن بن (١) زياد عن خالد بن أبي عمران قال: قلت: للقاسم بن محمد وسالم بن عبد اللَّه: الرجل يكون منا في أرض العدو فيصيد (الحيتان) (٢) ويبيع فتجتمع له الدراهم قال: لا بأس بذلك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابی عمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ اور حضرت سالم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہان دونوں حضرات سے پوچھا : ہم میں سے ایک آدمی جو دشمن کے علاقہ میں ہوتا ہے پس وہ مچھلیاں شکار کرتا ہے اور ان کو فروخت کرتا ہے ۔ پھر اس کے پاس بہت درہم جمع ہوجاتے ہیں ۔ ان کا کیا حکم ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: زيادة (أبي).
(٢) في [أ، ب]: (الحيات).