حدیث نمبر: 35191
٣٥١٩١ - حدثنا عفان قال: ثنا عبد الواحد قال: ثنا أبو (طلق) (١) قال: (حدثنا) (٢) أبو حنظلة بن نعيم أن سعدا كتب إلى عمر: أنا أخذنا أرضا لم يقاتلنا أهلها، قال: فكتب إليه عمر إن شئتم أن تقسموها بينكم فاقسموها، وإن شئتم أن تدعوها فيعمرها أهلها ومن دخل فيكم بعد كان له فيها نصيب، فإني أخاف أن تشاحوا (فيها) (٣) وفي (شربها) (٤) فيقتل بعضكم بعضا، فكتب إليه سعد: أن المسلمين قد أجمعوا على أن رأيهم لرأيك (تبع) (٥)، فكتب إليه: أن يردوا الرقيق (إلا) (٦) امرأة حملت من رجل من المسلمين (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو حنظلہ بن نعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طر ف خط لکھا کہ ہم نے ایک علاقہ پر بغیر قتال کے قبضہ کرلیا ہے۔ اب ہم کیا کریں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خط کا جواب لکھا : اگر تم لوگ اس علاقہ کو اپنے درمیان تقسیم کر نا چاہو تو اس کو تقسیم کرلو اور اگر تم چاہو تو اس علاقہ کو چھوڑ دو اس کے مکین ہی اس کو آباد کرلیں گے۔ اور جو شخص تمہارے میں داخل ہوگا اس علاقہ میں اس کو حصہ مل جانے کے بعد تو مجھے خوف ہے کہ تم لوگ اس معاملہ میں اور پانی کی باری میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے۔ پھر تم میں سے بعض بعض کو قتل کردیں گے۔ حضرت سعد رحمہ اللہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور فرمایا : بلاشبہ تمام مسلمانوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان کی رائے آپ رضی اللہ عنہ کی رائے کے تابع ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو پھر خط لکھا اور فرمایا : کہ یہ لوگ غلاموں کو ان کی عورتوں کی طرف واپس لوٹا دیں چاہے وہ مسلمانوں میں کسی آدمی سے حاملہ ہوچکی ہو۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط، هـ]: (بكر)، وقد أخرجه الأثرم كما في الاستخراج لأحكام الخراج ص ٢٣، وأبو طلق هو عدي بن حنظلة، انظر: التاريخ الكبير ٧/ ٤٥، والكنى للدولابي ١/ ٣٢٢.
(٢) في [هـ]: (كتب).
(٣) في [ط، هـ]: (منها).
(٤) في [أ، ب]: (شريها).
(٥) في (أ، ب): (تبعًا).
(٦) في [أ، جـ، ط، هـ]: (إلى).
(٧) مجهول؛ لجهالة أبي حنظلة، وأبي طلق.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35191
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35191، ترقيم محمد عوامة 33652)