مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في قسمة ما يفتح من الأرض، وكيف كان؟ باب: زمین کا جو حصہ فتح ہو جائے ا س کو تقسیم کرنے کا بیان اور یہ تقسیم کیسے ہو گی
حدیث نمبر: 35190
٣٥١٩٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: أتي عمر بن الخطاب بغنائم من غنائم جلولاء فيها ذهب وفضة، فجعل يقسمهما بين الناس فجاء ابن له يقال له: عبد الرحمن فقال: يا (أمير) (١) المؤمنين اكسني خاتما، قال: اذهب إلى أمك تسقيك شربة من سويق، قال: فواللَّه ما أعطاه شيئًا (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس مقام جلولاء کے غنائم میں سے مال غنیمت لایا گیا جس میں سونا چاندی بھی موجود تھا۔ پس آپ رضی اللہ عنہ اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم فرما رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا آیا جس کا نام عبد الرحمن تھا۔ اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! مجھے بھی ایک انگوٹھی پہنا دیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو اپنی ماں کے پاس جا وہ تجھے ستّو کا شربت پلائے گی ! اور فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اس کو کچھ بھی نہیں دوں گا۔
حواشی
(١) في [أ]: (أمر).