حدیث نمبر: 35189
٣٥١٨٩ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو بن دينار عن الزهري عن مالك بن أوس ابن الحدثان عن عمر قال: كانت أموال (١) بني النضير مما أفاء اللَّه على رسوله (٢) مما لم يُوجِف عليه المسلمون بخيل ولا ركاب، فكانت للنبي ﷺ خاصة، فكان يحبس منها نفقة سنة، وما بقي جعله في الكراع والسلاح عدة في سبيل اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مالک بن اوس الحدثان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بنو نضیر کا مال جو اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا تھا۔ وہ مسلمانوں کو بغیر قتال کے حاصل ہوا اس میں قتال کی ضرورت نہیں پڑی۔ اور یہ مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اپنے سال کا خرچہ روک لیتے تھے۔ اور جو باقی بچتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو گھوڑے اور اسلحہ کے لیے خاص فرما دیتے ان کو اللہ کے راستہ میں استعمال کرنے کی تیاری کے سلسلہ میں۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (مولى).
(٢) في [أ]: زيادة ﷺ.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35189
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٠٤)، ومسلم (١٥٨٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35189، ترقيم محمد عوامة 33650)