مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في قسمة ما يفتح من الأرض، وكيف كان؟ باب: زمین کا جو حصہ فتح ہو جائے ا س کو تقسیم کرنے کا بیان اور یہ تقسیم کیسے ہو گی
٣٥١٨٦ - حدثنا وكيع (قال) (١): ثنا سفيان عن واصل (الأحدب) (٢) عن أبي وائل قال: جلست إلى شيبة بن عثمان فقال لي: جلس عمر بن الخطاب مجلسك هذا فقال لي: لقد هممت أن لا أدع في الكعبة صفراء ولا بيضاء إلا (قسمتها) (٣) بين الناس قال: قلت له: ليس ذلك إليك، قد سبقك صاحباك فلم يفعلا ذلك، قال: هما (المرءان) (٤) يقتدى بهما (٥).حضرت ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت شیبہ بن عثمان رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا : کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تمہاری اس جگہ پر بیٹھے تھے اور مجھ سے فرمایا : کہ تحقیق میرا ارادہ ہے کہ میں کعبہ میں کوئی سونا چاندی نہیں چھوڑوں گا مگر میں اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم کر دوں گا۔ میں نے ان سے کہا : اس کا آپ رضی اللہ عنہ کو اختیار نہیں ہے۔ تحقیق آپ رضی اللہ عنہ کے دو ساتھی گزر چکے اور ان دونوں نے یہ کام نہیں کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہاں وہ دونوں ایسی شخصیات ہیں کہ ان کی اقتداء کی جانی چاہیے ۔