مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في العطاء من كان يورثه؟ باب: سالانہ تنخواہ کا بیان اور کون اس کا وارث بنے گا؟
حدیث نمبر: 35138
٣٥١٣٨ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني عباس أن المطلب بن عبد اللَّه بن قيس بن مخرمة أخبره أن امرأة (شكت إلى) (١) عائشة الحاجة، قالت: وما لك؟ قالت: كنا نأخذ عطاء إنسان ميت فرفعناه، فقالت عائشة: لم فعلتم؟ أخرجتم (سهمًا) (٢) من فيء اللَّه كان يدخل عليكم أخرجتموه من بينكم، وذلك في زمان عمر بن الخطاب (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطلب بن عبد اللہ بن قیس بن مخرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنی ضرورت کی شکایت کی تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تجھے کیا ہوا ؟ وہ کہنے لگی : ہم لوگ ایک مردہ انسان کی سالانہ تنخواہ لیتے تھے پس اب ہم نے اس کو ختم کردیا۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ تم نے اللہ کے مال سے وہ حصہ نکال دیا جو تم پر داخل ہوتا تھا اور تم نے اس کو اپنے گھر سے نکال دیا ! اور یہ واقعہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت کا ہے۔
حواشی
(١) في [ط، هـ]: (سألت عن).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (منها).
(٣) منقطع، المطلب بن عبد اللَّه لم يدرك عائشة.