مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
من كان يستحب الإفطار إذا لقي العدو باب: جو دشمن سے لڑائی کے وقت روزہ کشائی کو مستحب سمجھتا ہے
حدیث نمبر: 35135
٣٥١٣٥ - حدثنا زيد بن الحباب قال: ثنا معاوية بن صالح قال: حدثني ربيعة بن يزيد الدمشقي عن قزعة قال: سألت أبا سعيد عن الصوم في السفر فقال: سافرنا مع رسول اللَّه ﷺ فيصوم ونصوم حتى نزلنا منزلًا، فقال: "إنكم قد دنوتم من عدوكم والفطر أقوى لكم" (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قزعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے سفر میں روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا پس ہم نے بھی روزہ رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی روزہ رکھا یہاں تک کہ ہم ایک جگہ اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلاشبہ تم اب اپنے دشمن کے قریب آگئے ہو تو تمہارے لیے روزہ کشائی زیادہ فائدہ مند ہے۔