مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما يوصي به الإمام الولاة إذا بعثهم باب: امام جب گورنروں کو بھیجے تو اس بات کی وصیت کرے
٣٥١٣٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا هشام بن سعد قال: سمعت زيد بن أسلم يذكر عن أبيه قال: رأيت عمر بن الخطاب استعمل مولاه (هنيا) (١) على الحمى، قال: فرأيته يقول هكذا: ويحك يا هني، ضم جناحك عن الناس، واتق دعوة المظلوم، فإن دعوة المظلوم مجابة، (و) (٢) أدخل رب الصريمة والغنيمة، ودعني من نعم ابن عفان وابن عوف، فإن ابن عوف وابن عفان إن هلكت ماشيتهما رجعا إلى المدينة إلى نخل وزرع، وإن هذا المسكين إن هلكت ماشيته جاءني يصيح: يا (أمير) (٣) المؤمنين، (يا أمير المؤمنين) (٤)؛ فالماء والكلأ أهون علي من أن أغرم ذهبًا وورقًا، واللَّه واللَّه واللَّه إنها لبلادهم في سبيل اللَّه قاتلوا عليها في الجاهلية وأسلموا عليها في الإسلام، ولولا هذا النعم الذي يحمل عليه في سبيل اللَّه ما حميت على الناس من بلادهم شيئًا (٥).حضرت اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے آزاد کردہ غلام ھُنیّ کو چراگاہ پر امیر بنایا۔ راوی کہتے ہیں : کہ میں نے آپ رضی اللہ عنہ کو اسے یوں فرماتے ہوئے سنا : ہلاکت ہو اے ھنیی ! لوگوں کے ساتھ نرمی برتو ، اور مظلوم کی بددعا سے بچو۔ اس لیے کہ مظلوم کی بددعا قبول کی جاتی ہے۔ تم درختوں اور مال غنیمت کے منتظم بن کر داخل ہو۔ اور تم مجھے چھوڑ دو ابن عفان اور ابن عوف کے جانوروں کے بارے میں کہ اگر ابن عوف اور ابن عفان ان دونوں کے مویشی ہلاک بھی ہوگئے تو یہ دونوں مدینہ میں اپنے کھجور کے درختوں اور کھیتی کی طرف لوٹ جائیں گے ۔ اور اگر ان مسکینوں کے مویشی ہلاک ہوگئے تو یہ میرے پاس آئیں گے چیختے ہوئے۔ اے امیر المؤمنین ! اے امیر المؤمنین ! اور پانی اور چارہ مجھ پر آسان ہے اس بات سے کہ میں ان کو سونا اور چاندی بدلہ میں دوں ، اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم !۔