مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما يوصي به الإمام الولاة إذا بعثهم باب: امام جب گورنروں کو بھیجے تو اس بات کی وصیت کرے
حدیث نمبر: 35132
٣٥١٣٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا بعث أميرًا على سرية أو جيش أوصاه في خاصة نفسه بتقوى اللَّه و (لمن) (١) معه من المسلمين خيرا قال: "اغزوا في سبيل اللَّه، قاتلوا من كفر باللَّه، اغزوا ولا تغلوا ولا تغدروا، ولا (تمثلوا) (٢) ولا تقتلوا وليدًا" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو کسی جماعت یا لشکر پر امیر بنا کر بھیجتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو خاص طور پر اللہ کے تقوے کی وصیت فرماتے ۔ اور اس کے ساتھ جو مسلمان ہیں ان سے بھلائی کرنے کی وصیت فرماتے ۔ اور فرماتے : اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا، ان لوگوں کے ساتھ قتال کرنا جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، جاؤ اور خیانت مت کرنا نہ ہی غداری کرنا۔ اور لوگوں کے ہاتھ، پاؤں کاٹ کر مثلہ مت بنانا۔ اور نہ ہی بچوں کو قتل کرنا۔
حواشی
(١) في [هـ]: (من)، وفي [س]: (بمن).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (تميلوا).