حدیث نمبر: 35130
٣٥١٣٠ - حدثنا ابن علية عن الجريري عن أبي نضرة عن أبي فراس قال: خطب عمر بن الخطاب فقال: ألا إني واللَّه ما أبعث إليكم عمالًا ليضربوا أبشاركم ولا ليأخذوا أموالكم، ولكن أبعثهم إليكم ليعلموكم دينكم وسنتكم، فمن فعل به سوى ذلك فليرفعه إلي، فوالذي نفسي بيده لأقصنه (منه) (١)، فوثب عمرو بن العاص فقال: يا أمير المؤمنين أرأيتك، إن كان رجل من المسلمين على رعية فأدب بعض (رعيته) (٢) إنك لمقصه منه؟ قال: أي والذي نفس عمر بيده (لأقصنه) (٣) منه، أنا لا أقصه منه وقد رأيت رسول اللَّه ﷺ يقص من نفسه، ألا لا تضربوا المسلمين فتذلوهم، ولا تمنعوهم من حقوقهم فتكفروهم، ولا تجمروهم فتفتنوهم، ولا ⦗٣١٧⦘ تنزلوهم الغياض (فتضيعوهم) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو فراس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا : خبردار ! اللہ کی قسم ! میں نے تمہاری طرف گورنروں کو اس لیے نہیں بھیجا کہ وہ تمہیں مارنے لگیں اور تمہارے مال چھین لیں۔ بلکہ میں نے ان کو تمہاری طرف اس لیے بھیجا ہے۔ کہ وہ تمہیں تمہارا دین اور تمہارے نبی ﷺ کی سنت سکھلائیں جس شخص کے ساتھ اس کے علاوہ کوئی دوسرا معاملہ کیا جائے تو وہ اس مسئلہ کو میرے سامنے پیش کرے ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ ٔ قدرت میں میری جان ہے میں ضرور بالضرور اس کی طرف سے بدلہ لوں گا ۔ اس پر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہاٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے امیر المؤمنین ! آپ رضی اللہ عنہ کی کیا رائے ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی آدمی کسی جماعت پر امیر ہو اور وہ اپنی رعایا کے کسی شخص کو ادب سکھلائے تو کیا آپ رضی اللہ عنہ اس کی طرف سے بھی بدلہ لیں گے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہاں ! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ ٔ قدرت میں عمر کی جان ہے۔ ضرور بالضرور اس کی طرف سے بھی بدلہ لیا جائے گا۔ اور میں نے کہا اس کی طرف سے بدلہ لے سکتا ہوں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ اپنی طرف سے بدلہ لیتے تھے ؟ خبردار ! تم مسلمانوں کو مت مارو اس طرح کہ تم ان کو ذلیل کرنے لگو۔ اور تم ان کو ان کے حقوق سے مت روکو کہ تم ان کو اپنے سامنے جھکانے لگو۔ اور تم ان کو سرحدوں پر بھیج کر گھر واپسی سے مت روکو کہ کہیں تم ان کو فتنہ میں ڈال دو ۔ اور تم ان کو گھنے باغات والی جگہ میں مت اتارو کہ وہ منتشر ہوجائیں اور اس طرح تم ان کو ضائع کردو۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: (رعتيهم).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (لأقصه).
(٤) في [أ]: (فتضيعونهم).
(٥) مجهول، لجهالة أبي فراس، أخرجه أحمد (٢٨٦)، وأبو داود (٤٥٣٧)، والحاكم ٤/ ٤٣٩، وأبو يعلى (١٩٦)، وابن الجارود (٨٤٤)، ومسدد كما في المطالب (٢١١٩)، والطحاوي في شرح المشكل (٣٥٢٨)، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٥٦٧، والطيالسي (٥٤)، والبيهقي ٨/ ٤٨، والضياء (١١٦)، والمزي ٣٤/ ١٨٤، وابن عساكر ٤٤/ ٢٧٨، وابن شبه (١٣٨٣)، وابن عبد الحكم في فتوح مصر ص ٤٨.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35130
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35130، ترقيم محمد عوامة 33592)