مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما يوصي به الإمام الولاة إذا بعثهم باب: امام جب گورنروں کو بھیجے تو اس بات کی وصیت کرے
٣٥١٢٩ - حدثنا أبو أسامة عن عبد اللَّه بن الوليد عن عاصم بن أبي النجود عن ابن خزيمة بن ثابت قال: كان عمر إذا استعمل رجلًا أشهد عليه رهطا من الأنصار وغيرهم، قال: يقول: إني لم أستعملك على دماء المسلمين ولا (١) أعراضهم، ولكني استعملتك عليهم لتقسم بينهم بالعدل، (وتقيم) (٢) فيهم الصلاة، واشترط عليه أن لا يأكل نقيا، ولا يلبس رقيقا، ولا يركب برذونا، ولا يغلق بابه دون حوائج الناس (٣).حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بیٹے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب کسی کو گورنر بناتے تو انصار اور دوسرے مسلمانوں کی ایک جماعت کو اس پر گواہ بناتے اور فرماتے : میں نے تجھے مسلمانوں کی جانوں اور عزتوں پر امیر نہیں بنایا لیکن میں نے تجھے ان پر امیر بنایا ہے تاکہ تو ان کے درمیان انصاف سے تقسیم کرے، اور ان میں نماز کو قائم کروائے۔ اور آپ رضی اللہ عنہ اس پر شرط لگاتے کہ وہ چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائے گا اور نہ ہی باریک کپڑا پہنے گا اور نہ ہی اچھی نسل کے گھوڑے پر سوار ہوگا۔ اور لوگوں کی ضروریات کے وقت اپنے دروازے کو بند نہیں کرے گا۔