مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في عدل الوالي وقسمه قليلا كان أو كثيرا باب: حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
حدیث نمبر: 35128
٣٥١٢٨ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن زائدة عن سليمان عن زيد بن وهب عن حذيفة قال: مررت والناس يأكلون ثريدًا ولحمًا، فدعاني عمر إلى طعامه، فإذا هو يأكل خبزًا غليظًا وزيتًا، فقلت: (منعتني) (٢) أن آكل مع الناس الثريد، ودعوتني إلى هذا؟ قال: إنما دعوتك لطعامي، وذاك للمسلمين (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وھب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں گزرا اس حال میں کہ لوگ ثرید اور گوشت کھا رہے تھے ۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے کھانے کی دعوت دی۔ آپ رضی اللہ عنہ موٹی روٹی اور تیل کھا رہے تھے۔ میں نے کہا : آپ رضی اللہ عنہ ہی نے مجھے لوگوں کے ساتھ ثرید کھانے سے منع کیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ ہی مجھے اس کی دعوت دے رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے تو تمہیں اپنے کھانے کی دعوت دی ہے۔ اور مسلمانوں کا کھانا تو وہ ہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (حسن).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (منعني).