حدیث نمبر: 35126
٣٥١٢٦ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي عثمان قال: لما قدم (عتبة) (١) آذربيجان (أتى) (٢) بالخبيص فذاقه فوجده حلوًا، فقال: لو صنعتم لأمير المؤمنين من هذا، قال: فجعل له سفطين (عظيمين) (٣)، ثم حملهما على بعير مع رجلين فبعث (بهما) (٤) إليه، فلما قدما على عمر قال: أي شيء هذا؟ (قالوا) (٥): خبيص، فذاقه فإذا هو حلو، فقال: أكل المسلمين يشبع من هذا في رحله؟ قالوا: لا، قال: فردهما، ثم كتب إليه: أما بعد فإنه ليس (٦) من كد أبيلت ولا من كد أمك، أشبع المسلمين مما تشبع منه في رحلك (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ رحمہ اللہ جب آذر بائیجان آئے تو ان کے پاس حلوہ لایا گیا انہوں نے اس کو چکھا تو اس کو میٹھا پایا۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : اگر تم لوگ اس میں سے کچھ امیر المؤمنین کے لیے بناؤ تو بہت اچھا ہوگا پس انہوں نے دو بڑی ٹوکریاں آپ رضی اللہ عنہ کے لیے تیار کردیں پھر ان دونوں کو ایک اونٹ پر لاد کردو آدمیوں کے ساتھ ان کو حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا پس جب وہ دونوں حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہ کیا چیز ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ حلوہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو چکھا : تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اس کو میٹھا اور مزیدارپایا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کیا ان کے قافلہ میں تمام مسلمان اس سے سیر ہوئے ؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں ! آپ رضی اللہ عنہ نے یہ دونوں ٹوکریاں واپس لوٹا دیں پھر ان کی طرف خط لکھا : حمدو صلوۃ کے بعد، بلاشبہ نہ یہ تمہارے باپ کی کوشش سے ہے اور نہ تمہاری ماں کی کوشش سے ہے۔ جس چیز سے تم سیر ہوتے ہو اسی چیز سے اپنے قافلے میں موجود مسلمانوں کو سیر کرو۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (عقبة).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) في [أ، ب]: (عظمين).
(٤) في [أ، ب]: (إليهما).
(٥) في [جـ، ط، هـ]: (قال)، وزاد بعده في [هـ]: (هذا).
(٦) في [هـ]: زيادة (من كدك ولا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35126
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35126، ترقيم محمد عوامة 33588)