مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في عدل الوالي وقسمه قليلا كان أو كثيرا باب: حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
٣٥١٢٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا المسعودي عن محارب بن دثار عن الأحنف بن قيس: أنهم كانوا جلوسًا بباب عمر، فخرجت عليهم جارية فقال لها بعض القوم: (أيطؤك) (١) (أمير) (٢) المؤمنين؟ قالت: إني لا أحل له، يعني أنها من الخمس، فخرج عمر فقال: أتدرون ما أستحل من هذا الفيء؟ ظهرًا أحج عليه وأعتمر، وحلتين حلة الشتاء والصيف، وقوت آل عمر، قوت أهل بيت رجل من قريش ليسوا بأرفعهم ولا (بأخسهم) (٣) (٤).حضرت محارب بن دثار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت احنف بن قیس رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ہمارے پاس ایک باندی نکل کر آئی۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے اس سے پوچھا : کیا امیر المؤمنین نے تجھ سے وطی کی ہے ؟ وہ کہنے لگی : بلاشبہ میں ان کے لیے حلال نہیں ہوں۔ اس باندی کا مطلب یہ تھا کہ وہ مال خمس میں سے ہے اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی نکل آئے اور فرمانے لگے۔ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اس مال فئی میں سے اپنے لیے کتنی مقدار حلال سمجھی ہے ؟ ایک سواری جس پر میں حج کرتا ہوں اور عمرہ کرتا ہوں۔ اور دو کپڑوں کے جوڑے، سردیوں کا جوڑا اور گرمیوں کا جوڑا اور عمر کے اہل خانہ کا راشن جو قریش میں سے ایک آدمی کے اہل خانہ کے راشن کے برابر ہے جو نہ زیادہ مالدار ہو اور نہ ہی زیادہ غریب ہو۔