حدیث نمبر: 35121
٣٥١٢١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن ابن سيرين عن الأحنف بن قيس قال: كنا جلوسًا بباب عمر فخرجت جارية فقلنا: سرية عمر (فقالت) (١): إنها ليست سرية لعمر، إني لا أحل لعمر، إني من مال اللَّه فتذاكرنا ⦗٣١٢⦘ بيننا ما يحل- (له من مال اللَّه، قال: فرقي ذلك إليه، فأرسل إلينا فقال: ما كنتم تذاكرون؟ فقلنا: خرجت علينا جارية، فقلنا: هذه سرية عمر، فقالت: إنها ليست بسرية عمر، إنها لا تحل لعمر، إنها من مال اللَّه، فتذاكرنا ما بيننا ما يحل) (٢) لك من مال اللَّه، فقال: أنا أخبركم بما استحل من مال اللَّه: حلة الشتاء (والقيظ) (٣)، وما أحج عليه وما أعتمر من الظهر، وقوت أهلي كرجل من قريش، ليس بأغناهم ولا بأفقرهم، أنا رجل من المسلمين يصيبني ما أصابهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت احنف بن قیس رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک باندی نکلی ہم نے اسے کہا : عمر کی باندی، تو وہ کہنے لگی کہ میں عمر کی باندی نہیں ہوں اور نہ میں عمر کے لیے حلال ہوں۔ میں تو اللہ کا مال ہوں۔ راوی فرماتے ہیں : پھر ہم لوگ آپس میں اس بات کا تذکرہ کرنے لگے کہ اللہ کے مال میں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے کیا حلال ہیْ اس کی آواز حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے ہمیں قاصد بھیج کر بلایا اور پوچھا : تم لوگ کیا باتیں کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کیا : ہمارے پاس ایک باندی آئی تو ہم نے اسے کہا : عمر کی باندی ، اس پر وہ کہنے لگی کہ وہ عمر کی باندی نہیں ہے، نہ ہی وہ عمر رضی اللہ عنہ کے لئے حلال ہے، بیشک وہ تو اللہ کا مال ہے۔ ادھر ہم نے اس بات کا تذکرہ شروع کردیا کہ اللہ کے مال میں سے کتنی مقدار آپ رضی اللہ عنہ کے لیے حلال ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ میں نے اللہ کے مال میں کتنی مقدار کو حلال سمجھا ہے۔ گرمی اور سردی کا ایک جوڑا اور جس سواری پر میں حج کرتا ہوں اور جس پر میں عمرہ کرتا ہوں۔ اور میرے گھرو الوں کا راشن جو قریش کے عام آدمی کے برابر ہے۔ نہ قریش کے مالداروں کی طرح ہے نہ ان کے فقراء کی طرح۔ اور میں بھی مسلمانوں میں سے ایک آدمی ہوں جو ضروریات ان کی ہیں وہی ضروریات مجھے بھی لاحق ہیں۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (فقال).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٣) في [أ، ب]: (القنص).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35121
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35121، ترقيم محمد عوامة 33583)