حدیث نمبر: 35113
٣٥١١٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا بن أبي ذئب عن العباس بن (فضل) (١) عن (أبيه فضل) (٢) بن رافع عن جده أبي رافع قال: كنت خازنا لعلي قال: زينتُ ابنته بلؤلؤة من المال قد عرفها، فرآها عليها، فقال: من أين لها هذه؟ إنَّ قال: زينتُ ابنته بلؤلؤة من المال قد عرفها، فرآها عليها، فقال: من أين لها هذه؟ إنَّ للَّه علي أن أقطع يدها، قال: فلما رأيت ذلك قلت: يا أمير المؤمنين زينت بها بنت أخي، ومن أين كانت تقدر عليها؟ فلما رأى ذلك سكت (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبید اللہ بن ابی رافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت رافع رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خزانچی تھا۔ میں نے مال میں سے ایک موتی کا ہار آپ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو پہنا دیا جسے آپ رضی اللہ عنہ نے پہچان لیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے یہ ہار اس پر دیکھا تو فرمایا : اس کے پاس یہ کہاں سے آیا ؟ یقینا اللہ رب العزت نے مجھ پر یہ بات لازم کردی ہے کہ میں اس کا ہاتھ کاٹ دوں۔ راوی فرماتے ہیں : کہ میں نے جب یہ معاملہ دیکھا تو میں نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! یہ ہار میں نے اپنی بھتیجی کو پہنایا تھا ورنہ یہ کہاں اس پر قدرت رکھ سکتی ہے ؟ جب آپ رضی اللہ عنہ نے یہ معاملہ دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ خاموش ہوگئے۔

حواشی
(١) في النسخ: (فضيل).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (عن عبد اللَّه)، وانظر: الجرح والتعديل ٧٣/ ٦٠، والتاريخ الكبير ٧/ ١١٥، والأوسط ١/ ٧٧.
(٣) مجهول؛ لجهالة العباس بن ففمل، أخرجه الطبري في التاريخ ٣/ ١٦٣.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35113
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35113، ترقيم محمد عوامة 33576)