مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في عدل الوالي وقسمه قليلا كان أو كثيرا باب: حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
حدیث نمبر: 35111
٣٥١١١ - حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد (العمي) (١) عن مالك بن دينار عن الحسن أن رجلا سأل النبي ﷺ زمام شعر من الفيء فقال رسول اللَّه ﷺ: " (يسألني) (٢) زمامًا من النار، ما كان ينبغبى لك أن تسألنيه وما ينبغي لي أن أعطيكه" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مال غنیمت میں موجود بالوں سے بنی ہوئی لگام مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ مجھ سے آگ کی لگام مانگ رہا ہے۔ اور تیرے لیے مناسب نہیں ہے کہ تو اس کا مجھ سے سوال کرے۔ اور نہ میرے لیے مناسب ہے کہ یہ میں تجھے عطا کردوں۔
حواشی
(١) في [هـ]: (القمي).
(٢) في [أ، ب]: (تسألني).