مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في عدل الوالي وقسمه قليلا كان أو كثيرا باب: حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
حدیث نمبر: 35110
٣٥١١٠ - حدثنا أبو معاوية قال: ثنا الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي صالح الذي كان يخدم أم كلثوم بنت علي قال: قالت: يا أبا صالح، كيف لو رأيت أمير ⦗٣٠٨⦘ المؤمنين وأتي بأترج، فذهب حسن (أو) (١) حسين يتناول منه أترجة، (فانتزعها) (٢) من يده، (وأمر به) (٣) (فقسمها) (٤) بين الناس (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح رحمہ اللہ جو حضرت ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ ا کی خدمت کیا کرتے تھے فرماتے ہیں کہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : اے ابو صالح ! تیرا کیا حال ہوتا اگر تو امیر المؤمنین کو دیکھ لیتا اس حال میں کہ ان کے پاس مالٹے لائے گئے اتنے میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا حضرت حسین رضی اللہ عنہ گئے اور ان میں سے ایک مالٹا لے لیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھ سے وہ مالٹا چھین لیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور ان مالٹوں کو فوراً لوگوں میں تقسیم کردیا گیا ؟ !
حواشی
(١) في [هـ]: (و).
(٢) في [أ، ب]: (فنزعها).
(٣) في [أ، ب]: (وأمراته).
(٤) في [جـ]: (فقسم).