حدیث نمبر: 35109
٣٥١٠٩ - حدثنا أبو أسامة عن الحسن بن الحكم النخعي قال: حدثتني أمي عن أم (عثمان) (١) أم ولد لعلي (قالت) (٢): جئت عليًا وبين يديه قرنفل مكبوب في الرحبة، فقلت: يا أمير المؤمنين، هب لابنتي من هذا القرنفل قلادة (٣)، فقال: هكذا، ونقر بيده (أدني درهمًا) (٤)، فإنما هذا مال المسلمين، وإلا فاصبري حتى يأتي حظنا منه لنهب لابنتك قلادة (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ام عفان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ام ولد ہیں۔ کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اس حال میں کہ ان کے سامنے صحن میں لونگ کے رنگ کا ہار پڑا ہوا تھا۔ میں نے کہا : اے امیر المؤمنین ! یہ لونگ کے رنگ کا ہار میری بیٹی کو ہبہ کردیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا : یہ والا۔ میں درہم کے قریب ہوگئی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ مسلمانوں کا مال ہے مگر تو صبر کر یہاں تک کہ اس میں سے ہمارا حصہ بھی آجائے تو ہم یہ ہار تیری بیٹی کو ہبہ کردیں گے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ح، ط، س، هـ]: (عفان)، وسيأتي الخبر في ١٣/ ٢٨٦ [٣٧٢٣١] وفيه (أم عثمان)، وفي ذخائر العقبى ١/ ١٣٤: (أم عثمان).
(٢) في [جـ]: (قال).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (قرنفل).
(٤) في [هـ]: (ارمي درهم).
(٥) مجهول؛ لجهالة أم الحسن بن الحكم ومن روت عنها.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35109
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35109، ترقيم محمد عوامة 33572)