مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في عدل الوالي وقسمه قليلا كان أو كثيرا باب: حاکم کا انصاف کرنا اور مال کو تقسیم کرنا ، مال تھوڑا ہو یا زیادہ
٣٥١٠٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن هارون بن عنترة (عن أبيه) (١) قال: كان أبي صديقا لقنبر، قال: انطلقت مع قنبر إلى علي فقال: يا أمير المؤمنين قم معي، قد خبات لك خبيئة، فانطلق معه إلى (بيته) (٢)، (فإذا أنا) (٣) بسلة مملوءة جامات من ذهب وفضة، فقال: يا أمير المؤمنين، إنك لا تترك إلا شيئًا قسمته أو أنفقته، فسل سيفه فقال: ويلك، لقد أحببت أن تدخل بيتي نارًا كبيرة ثم استعرضها بسيفه فضربها فانتثرت بين إناء مقطوع نصفه وثلثه، قال: عَلَيَّ بالعرفاء، فجاؤا فقال: اقسموا هذه بالحصص، قال: ففعلوا وهو يقول: يا صفراء يا بيضاء (غري) (٤) غيري قال: وجعل يقول: ⦗٣٠٧⦘ هذا (جناي) (٥) وخياره فيه … إذ كل (جان) (٦) يده إلى فيه (٧) قال: (و) (٨) في بيت المال مسال وإبر، وكان يأخذ من كل قوم خراجهم من عمل أيديهم، قال: وقال للعرفاء: اقسموا (هذا) (٩)، قالوا: لا حاجة لنا فيه، قال: والذي نفسي بيده لنقسمنه خيره مع شره (١٠).حضرت عنترہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد قنبر کے دوست تھے۔ وہ فرماتے ہیں میں قنبر کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ اس نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! اُٹھیئے ! میرے ساتھ چلیے۔ تحقیق میں نے آپ رضی اللہ عنہ کے لیے کچھ مال پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ اس کے گھر چلے گئے۔ تو وہاں ایک ٹوکری سونے اور چاندی سے بھری ہوئی تھی۔ اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! بیشک آپ رضی اللہ عنہ کوئی چیز نہیں چھوڑتے مگر یہ کہ اس کو تقسیم کردیتے ہیں یا اس کو خرچ کردیتے ہیں۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار سونت لی۔ اور فرمایا : ہلاکت ہو۔ تو چاہتا ہے کہ تو میرے گھر میں اتنی بڑی آگ داخل کر دے ! پھر آپ رضی اللہ عنہ نے بےدھیانی میں اپنی تلوار سیدھی کی اور اس ٹوکری پر ماری تو اس کا آدھا اور ایک تہائی کٹے ہوئے برتن کے درمیان بکھر گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نگرانوں کو میرے پاس بلاؤ۔ پس وہ لوگ آگئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس مال کو حصوں میں تقسیم کرو۔ انہوں نے ایسا کردیا اور آپ رضی اللہ عنہ یوں کہہ رہے تھے : اے سونا چاندی ! میرے علاوہ کسی اور کو دھوکہ میں ڈالنا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ یہ شعر بھی پڑھ رہے تھے۔ ہَذَا جَنَایَ وَخِیَارُہُ فِیہِ إذْ کُلُّ جَانٍ یَدُہُ إِلَی فِیہِ ۔ راوی کہتے ہیں : بیت المال میں چھوٹی اور بڑی سوئیاں تھیں۔ جو آپ رضی اللہ عنہ لوگوں سے بطور خراج کے وصول کرتے تھے ان کے ہاتھوں کی محنت کے بقدر، آپ رضی اللہ عنہ نے نگرانوں سے کہا : ان کو تقسیم کرلو۔ انہوں نے کہا : ہمیں اس کو تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ۔ ہم ضرور تقسیم کریں گے اس مال کو اس کی برائی کے ساتھ ہی۔