حدیث نمبر: 35107
٣٥١٠٧ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي قال: ثنا حبان عن (مجالد) (١) عن الشعبي أن عمر أُتيَّ من جلولاء (بستة) (٢) آلاف ألف ففرض العطاء فاستشار في ⦗٣٠٦⦘ ذلك عبد الرحمن بن عوف، فقال عبد الرحمن بن عوف: ابدأ بنفسك، فانت أحق بذلك، قال: لا، بل أبدأ بالأقرب من رسول اللَّه ﷺ ممن شهد بدرا حتى ينتهي ذلك إليَّ، (قال) (٣): فبدأ ففرض لعلي في خمسة آلاف ثم لبني هاشم ممن شهد بدرا ثم لمواليهم ثم لحلفائهم ثم الأقرب فالأقرب حتى ينتهي ذلك (إليه) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حلولاء مقام سے چھ لاکھ آئے ۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے عطیات مقرر کرنا چاہے۔ تو اس بارے میں مشورہ مانگا۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ رضی اللہ عنہ خود سے ابتدا کریں۔ آپ رضی اللہ عنہ اس کے زیادہ حقدار ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ میں ابتدا کروں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان قریبی رشتہ داروں سے جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ یہ سلسلہ مجھ تک پہنچ جائے۔ راوی کہتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ابتدا فرمائی اور ان کے لیے پانچ ہزار مقرر فرمائے۔ پھر بنو ہاشم میں سے جو غزوہ بدر میں حاضر ہوئے تھے ان کے لیے حصہ مقرر فرمایا۔ پھر ان کے غلاموں کے لیے پھر ان کے حلیفوں کے لیے۔ پھر اقرب فالاقرب کے اعتبار سے۔ یہاں تک کہ یہ معاملہ آپ رضی اللہ عنہ تک پہنچ گیا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (مجاهد).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (بسبعة).
(٣) في [أ، ب]: (أن قال: بل أبدأ بالأقرب من رسول اللَّه ﷺ).
(٤) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (إلي).
(٥) منقطع ضعيف، وحبان هو ابن علي العنزي، وسبب ضعفه مجالد، والشعبي لا يروي عن عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35107
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35107، ترقيم محمد عوامة 33570)